بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ساس کو زکاۃ دینے کا حکم

سوال

بندہ اپنی ساس کو  جو مستحق ہو زکاۃ دے سکتا ہے ؟

 

جواب

واضح رہے کہ اپنے اصول (والدین، دادا، نانا وغیرہ) وفروع (اولاد اور ان کی نسل) کو  اور اسی طرح میاں بیوی کا ایک دوسرے کو زکاۃ  دینا جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر  نسبی اور سسرالی رشتہ دار اگر مستحقِ زکاۃ ہوں تو  ان کو زکاۃ دینا جائز ہے، لہذ ا ساس اگر زکاۃ  کی مستحق ہو تو اسے زکاۃ دینا درست ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200197
تاریخ28-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں