بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاڑھی کے بال ٹوٹ جانے کی صورت میں اسے دانتوں سے کاٹنا

سوال

کیا ڈاڑھی کا بال ٹوٹ جائے تو اسے دانت سے کاٹنا چاہیے؟

جواب

داڑھی کے بال انسانی جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں، اس لیے ان کا حکم یہ ہے کہ اگر سہولت ہو تو ان کو  زمین میں دفنا دینا چاہیے،  گندگی وغیرہ میں نہیں پھینکنے چاہییں، اگر ٹوٹ کر گرجائیں اور جمع کرنے میں سہولت نہ ہو تو انہیں دفن کرنا ضروری نہیں ہے، حرج کی وجہ سے معاف ہے۔

"فإذا قلم أظفاره أو جزّ شعره ینبغي أن یدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز، فإن رمی به فلا بأس، وإن ألقاه في الکنیف أو في المغتسل یکره ذلك؛ لأن ذلك یورث داء، کذا في فتاوی قاضي خان". (الفتاوی الهندية، ج۵ ص ۳۵۸ کتاب الکراهية، الباب التاسع عشر في الحنان والخصآء وقلم الأظفار ...الخ)

باقی ڈاڑھی کے بال ٹوٹ جانے کی صورت میں دانتوں سے اس کے ٹکڑے کرناشرعاً  ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200193
تاریخ28-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں