بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل جنابت میں صابن کے استعمال کا حکم

سوال

کیا غسلِ جنابت میں صابن کا استعمال ضروری ہے?

جواب

غسلِ جنابت میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنے کے بعد پورے جسم پر اس طرح پانی بہا دینا کافی ہے کہ جسم میں بال کے بقدر بھی کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے، صابن کا استعمال نظافت کے لیے اچھا ہے، لیکن غسلِ جنابت کے صحیح ہونے کے لیے صابن کا استعمال کرنا ضروری نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200144
تاریخ27-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں