بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس کے علاج کے لیے اذان

سوال

کرونا وائرس کی وجہ سے آج کل اذانیں دی جا رہی ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کا شریعت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی اذان دیتا ہے تو جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کے بارے میں فقہاء احناف سے کوئی روایت منقول نہیں ہے، البتہ شوافع کے ہاں اس طرح کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت ہے، اس لیے وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کی گنجائش ہے، تاہم یہ اذان مساجد میں نہ دی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200134
تاریخ27-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں