بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1448ھ 18 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عالمِ دین کے بغیر نکاح پڑھنا

سوال

کیا شرعی نکاح مولوی کے بغیر پڑھا جا سکتا ہےاور یہ جائز ہے؟ اور اس کا اصل طریقہ کار بتا دیں!

جواب

نکاح پڑھنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ نکاح کا خطبہ پڑھنے کے بعد فریقین کی طرف سے ایجاب و قبول ہوجائے، تاہم اگر نکاح کا خطبہ نہیں پڑھا گیا ہو اور ایجاب و قبول ہوجائے تب بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔

مسنون نکاح کے لیے کسی عالمِ دین کا ہونا تو شرط نہیں ہے، البتہ کسی نیک متبعِ شریعت بزرگ یا عالم سے نکاح کا خطبہ پڑھوانا چاہیے، عام طور پر نکاحِ مسنون کا خطبہ علماءِ کرام کے علاوہ کسی کو آتا نہیں ہے؛ اس لیے ان ہی سے نکاح پڑھوانا بہتر ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200124
تاریخ27-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں