بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہ پر ندامت نہ ہو تو کیا کریں؟

سوال

اگر کسی شخص کو اپنے کیے  ہوئے گناہ پر چاہنے کے باوجود بھی  ندامت نہ ہو،  تو کیا وہ دینی بیان یا  اللہ کا ذکر سنتے ہوئے، خود سے کسی طرح  اپنے اس گناہ پر ندامت کی کیفیت پیدا کرلے،  تو کیا یہ جائز ہوگا، اور کیا یہ کیفیت ندامت کے  لیے ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں دل میں نرمی پیدا کرنے کے  لیے کثرت سے استغفار کا اہتمام کریں،  نیز   رونا نہ بھی آئے تو رونے کی شبیہ اختیار کرنے میں حرج نہیں، تاہم توبہ کرتے ہوئے آئندہ وہ  گناہ نہ کرنے کا عزم ہونا، اور صدقِ  دل سے اظہارِ  ندامت کے ساتھ معافی مانگنا ضروری  ہے۔

دل کی نرمی کے لیے قرآنِ پاک کی کثرت سے تلاوت کرنا اور موت کو یاد رکھنا بھی مفید ہے، نیز یتیم بچوں کے اکرام سے بھی دل میں نرمی اور رجوع کے آثار پیدا ہوتے ہیں۔

المستدرك علي الصحيحين للحاكم میں ہے:

"8723 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَيْسَانِ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ: «ابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُكَاءً فَتَبَاكَوْا، لَوْ تَعْلَمُونَ الْعِلْمَ لَصَلَّى أَحَدُكُمْ حَتَّى يَنْكَسِرَ ظَهْرُهُ وَلَبَكَى حَتَّى يَنْقَطِعَ صَوْتُهُ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ  [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8723 - على شرط البخاري ومسلم".

( 4 / 622، رقم الحديث: 8723، ت: مصطفي عبد القادر عطا، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200083
تاریخ26-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں