بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے اذان دینے کا حکم

سوال

کرونا وائرس  کی و جہ سے رات 10بجے اذان دینا کیسا ہے؟

جواب

و با کے خاتمے کے لیے اذان دینے کے بارے میں فقہائے احناف سے کوئی روایت منقول نہیں، البتہ فقہِ شافعی میں اس طرح کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت ہے، اس لیے وبا (کرونا وائرس) کے خاتمے کے لیے اذان دینے کی گنجائش ہے، تاہم یہ اذان مساجد کے لاؤڈ اسپیکر سے نہ دی جائے، اور رات دس بجے کی کچھ تخصیص نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200036
تاریخ26-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں