بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فدیہ کی رقم دو افراد میں تقسیم کرکے دینا

سوال

کیا ایک فدیہ کی رقم مثلاً  100  روپے ہیں، ہم اسے دو فقیروں میں تقسیم کرسکتے ہیں یعنی دو بندوں کو  پچاس پچاس روپے دے کر؟

جواب

نماز اور روزے کا ایک فدیہ دو مسکینوں میں تقسیم کرکے دے دینے سے  فدیہ ادا ہوجائے گا۔ (امداد الفتاوی 2/181، ط: مکتبہ دارالعلوم۔ فتاوی رحیمیہ 10/ 276، ط: دارالاشاعت)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 427):
"(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة.

(قوله: وبلا تعدد فقير) أي بخلاف نحو كفارة اليمين للنص فيها على التعدد، فلو أعطى هنا مسكينًا صاعًا عن يومين جاز، لكن في البحر عن القنية: أن عن أبي يوسف فيه روايتين، وعند أبي حنيفة لايجزيه، كما في كفارة اليمين، وعن أبي يوسف لو أعطى نصف صاع من بر عن يوم واحد لمساكين يجوز، قال الحسن: وبه نأخذ اهـ ومثله في القهستاني". فقط والله أعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200021
تاریخ26-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں