بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس کی وجہ سے باجماعت نماز میں صفوں کے درمیان فاصلہ رکھنا

سوال

کرونا کی وجہ سے جماعت کے نماز میں ساتھی اپنے درمیان تقریباً فٹ دو فٹ کا فاصلہ رکھنا کیسا ہے؟ یہاں پر بعض لوگ ہیں جو کہ اس کی دعوت دیتے ہیں  کہ فاصلہ رکھو۔

جواب

جماعت کی نماز میں مقتدیوں کے درمیان ٖفٹ یا دو فٹ کا فاصلہ رکھنا مکروہ ہے، لہذا مذکورہ صورت حال میں نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (1 / 570):
[فائدة] قال في الأشباه: إذا أدرك الإمام راكعا فشروعه لتحصيل الركعة في الصف الأخير أفضل من وصل الصف. اهـ. أما لو لم يدرك الصف الأخير فلا يقف وحده، بل يمشي إليه إن كان فيه فرجة، وإن فاتته الركعة كما في آخر شرح المنية معللا بأن ترك المكروه أولى من إدراك الفضيلة تأمل، ويشهد له «أن أبا بكرة - رضي الله عنه - ركع دون الصف ثم دب إليه، فقال له صلى الله عليه وسلم: زادك الله حرصا، ولا تعد»

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ کیجیے:

 

وبائی امراض یا وائرس کی وجہ سے صفوں میں اتصال کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200008
تاریخ26-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں