بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیعانہ ضبط کرنا جائز نہیں

سوال

دو بندوں کے درمیان خرید و فروخت ہوتی ہے، قیمت متعین ہوئی بیعانہ دے دیا، اب ان میں سے ایک بندہ لینے والا یا دینے والا انکاری ہو جاتا ہے تو بیعانہ کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

خرید و فروخت میں بیعانہ لینا دینا جائز ہے، البتہ بیعانہ کی رقم قیمت کا حصہ ہوتی ہے، سودا ختم ہوجانے کی صورت میں ضبط کرنا جائز نہیں، بلکہ واپس کرنا لازم ہے۔

"عن عمرو بن شعیب عن أبيه عن جده قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان. رواه مالك وأبوداؤد وابن ماجه".

وفي الهامش:

"(قوله:"بيع العربان" وهو أن يشتري السلعة ويعطي البائع درهماً أو أقلّ أو أكثر على أنه إن تمّ البيع حسب من الثمن وإلا لكان للبائع ولم يرجعه المشتري، وهو بيع باطل؛ لمافيه من الشرط والغرر". (مشکاۃ المصابیح، کتاب البیوع) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201370
تاریخ28-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں