بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ گاڑی کی قیمتِ فروخت تفاوت کے ساتھ تقسیم کرنا

سوال

ہماری ایک گاڑی پارٹنر شپ پر تھی، ہم نے وہ 34 لاکھ کی بیچ دی جس میں 20 لاکھ مل گئے باقی 14 لاکھ  5 ماہ بعد ملیں گے، اب ہم دونوں نے خوشی سے بانٹ دیے، جس میں دونوں کی رضامندی سے ایک کو 15لاکھ کیش مل گئے اور دوسرے کو 5لاکھ کیش اور 14لاکھ 5ماہ بعد ملیں گے یعنی ایک کو 15لاکھ کیش اور دوسرے کو 19لاکھ 5ماہ میں ملیں گے، پھر ایک دوست نے کہا کہ اس میں شاید گناہ ہو؟

جواب

گاڑی کی قیمتِ فروخت فریقین نے اگر باہمی رضامندی سے مذکورہ طریقے سےتقسیم کی ہے، یعنی ایک فریق کو ادھار کی وجہ سے دوسرے فریق سے زائد رقم دی جارہی ہے تو شرعاً اس میں مضائقہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107201368
تاریخ28-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں