بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک دو تین کہنے سے طلاق واقع ہو گی نہیں؟

سوال

زید  نے صرف عدد بولا،  طلاق  کے الفاظ نہیں بولے،  مطلب ایک دو،  کیا حکم ہے؟

جواب

طلاق واقع کرنے کے لیے لفظِ طلاق کا تلفظ ضروری ہے،  خواہ وہ لفظ طلاق کے لیے صریح ہو یا کنایہ ، لہذا اگر کوئی شخص  زبان سے طلاق کا کوئی لفظ  نہیں کہتا ،  بلکہ صرف ایک دو تین کہتا ہے،   تو ایسے شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201358
تاریخ28-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں