بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوکان پر موجود سامان کی زکاۃ کا حساب

سوال

میں اپنی دوکان پے سامان لاتا ہوں اور وہ کبھی سب ہر روز آگے فروخت ہو جاتا ہے، کبھی ایک ہفتے میں فروخت ہو جاتا ہے، لیکن اس سے زیادہ دن یہ سامان دوکان پر نہیں رکتا، اس پر زکاۃ کیسے نکالنی ہے جب کہ اس پر سال بھی نہیں گزرتا؛ کیوں کہ یہ ایک دن میں یا ایک ہفتے میں بِک جاتا ہے پھر نیا خرید کر لانا پڑتا ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ صاحبِ نصاب شخص پر  زکاۃ کے وجوب کے لیے اس کے ہر مال پر سال گزرنا شرط نہیں، بلکہ صاحبِ نصاب بن جانے کے بعد سال کے درمیان میں جو مال آتا اور خرچ ہوتا رہے، اس کا حساب نہیں کیا جائے گا، سال کے شروع اور آخر کا اعتبار کیا جائے گا، الا یہ کہ سال کے درمیان میں مال (نقدی، مالِ تجارت زیور وغیرہ) بالکل ختم ہوجائے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جس روز آپ کی زکاۃ کا سال مکمل ہوتا ہو، اس روز موجود سامانِ تجارت کی قیمتِ فروخت لگا کر نقدی و دیگر اموالِ زکاۃ میں شامل کرکے کل کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201338
تاریخ25-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں