عورت کے لیے لوہے کا استعمال
سوال
کیا عورت کے لیے لوہے کا استعمال اسلام میں حرام ہے؟
جواب
اگر سوال میں مراد زینت کے لیے لوہے کا استعمال ہے تو عورت ہردھات کا زیور استعمال کرسکتی ہے، لوہے، تانبے، پیتل، پلاسٹک اور کانچ کا بنا ہوا زیور بھی عورت کے لیے استعمال کرنا درست ہے، البتہ انگوٹھی صرف سونے اور چاندی کی جائز ہے، جمہور کے نزدیک اِن دونوں دھاتوں کے علاوہ انگوٹھی پہننا عورت کے لیے جائز نہیں۔
اور اگر مراد زائد بالوں کی صفائی کے لیے لوہے کا استعمال ہے تو ان بالوں کو عورتوں کے لیے چٹکی یا چمٹی سےاکھاڑنا مستحب ہے، عورت کے لیے پاوڈر ،کریم یا استرے کا استعمال بھی جائز ہے۔
قال ابن عابدین رحمه الله تحت (قوله: ویستحب حلق عانة):
"قال في الهندیة: ولو عالج بالنورة یجوز، کذا في الغرائب. وفي الأشباه: والسنة في عانة المرأة النتف". (۵، ؍۲۶۱) فقط و الله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

