بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم سے غریبوں کے لیے طبی آلات خریدنا

سوال

کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتِ حال میں طبی آلات کی خریداری میں زکاۃ کی رقم کو استعمال کرنا کیساہے؟ صورتِ حال بہتر  ہوجانے پہ یہ آلات ہسپتالوں میں قابلِ استعمال رہیں گے،  جہاں مستحق افراد کا تو مفت علاج ہوگا جب کہ مخیر حضرات سے فیس لے کر علاج کیا جائے گا۔

جواب

واضح رہے کہ زکاۃ کی ادائیگی کے یے کسی مستحقِ زکاۃ کو اس رقم کا "مالک" بنانا ضروری ہے، جب کہ ہسپتال میں طبی آلات میں اس رقم کو خرچ کرنے سے اگرچہ مستحقینِ زکاۃ کا مفت میں اس سے علاج کرنا ممکن ہوجائے گا، لیکن چوں کہ ان کو مالک نہیں بنایا جارہا، اس لیے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201303
تاریخ25-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں