بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مال تجارت میں قیمت فروخت پر زکاۃ ہے

سوال

میری آٹو پارٹس کی دوکان ہےاور میری دوکان پر کم وبیش دوسو آئٹم ہیں  میری سالانہ زکاۃ کی ترتیب پندرہ شعبان ہے ، پچھلے تین سال سے الحمدللہ زکاۃ نکال رہا ہوں ، معلوم یہ کرنا ہے کہ مال کی خریداری والے ریٹ پر زکاۃ نکالنی ہے یا بیچنے والے ریٹ پر؟

جواب

سامانِ تجارت کی زکاۃ اس سامان کی قیمتِ فروخت کے حساب سے  واجب ہوتی ہے، یعنی اس سامان کی  موجودہ بازاری قیمت (مارکیٹ  ریٹ) پر،لھذا پندرہ شعبان کو آپ کے پاس جتنا مال تجارت موجود ہے اس کی اس دن کی  قیمت فروخت کے حساب سے زکاۃ نکالیں گے ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 286)

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعاً، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه، ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه، فتح."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201267
تاریخ25-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں