بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے فون پر بات کرنا

سوال

 میرے نکاح کو تقریبأ ایک سال ہونے والا ہے  اور رخصتی نہیں ہو ئی تو  کیا میرا اپنے خاوند سے بات کرنا جائز ہے؟  اگر جائز ہے تو دن وقت کی کوئی قید ہے کہ اتنی دیر بات کرنی ہے،  اس سے زیادہ نہیں؟

جواب

باقاعدہ نکاح ہوجانے کے  بعد اپنی منکوحہ سے ملنا، اس سے باتیں کرنا  شرعاً جائز ہے، اس کے لیے کسی دن وقت یا دورانیہ کی قید نہیں ہے،  البتہ باقاعدہ رخصتی سے پہلے تنہائی میں ملنا یا  باتیں  کرنا بعض خاندانوں  میں معیوب سمجھاجاتاہے، اس لیے اپنے خاندان و گھرانہ کے عرف کو سامنے رکھا جائے، بسااوقات یہ بڑے فساد کاذریعہ بن جاتاہے۔ اور کوئی شرعی مانع نہ ہو تو حتی الامکان جلد رخصتی کا اہتمام کیا جائے۔

"(هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي". (فتاوی شامی، ۳/۳، سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201260
تاریخ25-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں