بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک رات میں دو بار ہم بستری کرنے پر کتنی بار غسل واجب ہے؟

سوال

اگر رات کو بیوی کے ساتھ دو دفعہ ہم بستری کرنے کو دل کرے تو کیا دو دفعہ الگ الگ غسل واجب ہے یا دو دفعہ ہم بستری کرنے کے بعد ایک ہی غسل کیا جا سکتا ہے؟

جواب

اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے ایک ہی رات میں دوسری مرتبہ صحبت کرنا چاہے تو فضیلت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ غسل کر کے صحبت کرے، اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ شرم گاہ کو دھو لے اور نماز والا وضو کر لے، اور تیسرا درجہ یہ ہے کہ شرم گاہ اور ہاتھ منہ دھو لے پھر صحبت کرے۔ اور اگر بالکل پانی کو چھوئے بغیر ایک سے زائد مرتبہ صحبت کرے تو یہ بھی جائز ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 175):
’’ولا معاودة أهله قبل اغتساله إلا إذا احتلم لم يأت أهله‘‘.

صحیح مسلم میں ہے (1/ 249):
’’عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتى أحدكم أهله، ثم أراد أن يعود، فليتوضأ». زاد أبو بكر في حديثه: ’’بينهما وضوءاً‘‘، وقال: ’’ثم أراد أن يعاود‘‘.

سنن ابوداود میں ہے (1/ 56):
’’عن أبي رافع: «أن النبي صلى الله عليه وسلم طاف ذات يوم على نسائه، يغتسل عند هذه وعند هذه»، قال: قلت له: يا رسول الله، ألا تجعله غسلاً واحداً، قال: «هذا أزكى وأطيب وأطهر»‘‘.

عن أنس، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف ذات يوم على نسائه في غسل واحد»‘‘.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201229
تاریخ24-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں