بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تصویر والی شرٹ میں نماز کا حکم

سوال

بعض لوگ ایسی شرٹ پہنتے ہیں جس میں گھوڑے نما تصویر ہوتی ہے، لیکن اس کی شکل نمایاں نہیں ہوتی،  ایسی تصویر کےساتھ نماز پڑھی تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

اگر شرٹ پر کسی جان دار کی تصویر ہو تو ایسے کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ  اگر وہ تصویر مٹادی جائے یا چھپالی جائے یا اس کا چہرہ مکمل کاٹ دیا جائے یا  تصویر بہت چھوٹی ہو کہ (اگر اسے زمین پر رکھ کر کھڑے ہونے والا دیکھے تو) سمجھ نہ آتی ہو  یا اس پر سیاہی مل دی جائے تو  پھر نماز میں کراہت نہیں ہوگی، لیکن صرف آنکھیں مٹانے سے وہ تصویر کے حکم سے نہیں نکلے گی۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201228
تاریخ24-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں