بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی طرف تین پتھر پھینک کر کہنا طلاق دینا کوئی آسان کام نہیں

سوال

ہمارے گاؤں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کاارادہ کرے تو تین پتھر بیوی کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے، اگر تین پتھر ہوں  تو  تین طلاقیں سمجھی جاتی ہیں اور دو  پتھر ہوں تو دو طلاقیں۔

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہو رہا تھا بیوی نے تین پتھر ہاتھ میں اٹھائے اور میرے سامنے کیے اور کہا کہ  لو مجھے طلاق دے دو، میں نے وہ پتھر بیوی کے ہاتھ سے لیے اور غصے میں بیوی کی طرف مارتے ہوئے میں نے کہا کہ طلاق دینا کوئی آسان کام نہیں ہے  اور میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ میری نیت یہی تھی کہ طلاق نہیں دوں گا، میں نے غصے میں وہ پتھر اس کی طرف مارے اور یہ زبان سے کہا کہ طلاق دینا کوئی آسان کام نہیں ہے، مقصد یہ تھا کہ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے جو میں کرلوں،  اب آپ  بتائیے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ محض تین پتھر بیوی کو تھما دینے یا اس کی طرف پھینک دینے سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی،  شوہر کی جانب سے بیوی کی طرف  صریح یا کنائی الفاظ میں طلاق کی نسبت کرنا شرعاً ضروری ہوتا ہے، پس آپ کے گاؤں میں جو طریقہ رائج ہے اس سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی۔ پس صورتِ مسئولہ  میں بیوی کی جانب  پتھر  پھینکتے  ہوئے یہ کہنا کہ "طلاق دینا کوئی آسان کام نہیں ہے"، اس  سے  کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: وَرُكْنُهُ لَفْظٌ مَخْصُوصٌ) هُوَ مَا جُعِلَ دَلَالَةً عَلَى مَعْنَى الطَّلَاقِ مِنْ صَرِيحٍ أَوْ كِنَايَةٍ فَخَرَجَ الْفُسُوخُ عَلَى مَا مَرَّ، وَأَرَادَ اللَّفْظَ وَلَوْ حُكْمًا لِيُدْخِلَ الْكِتَابَةَ الْمُسْتَبِينَةَ وَإِشَارَةَ الْأَخْرَسِ وَالْإِشَارَةَ إلَى الْعَدَدِ بِالْأَصَابِعِ فِي قَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ هَكَذَا، كَمَا سَيَأْتِي. وَبِهِ ظَهَرَ أَنَّ مَنْ تَشَاجَرَ مَعَ زَوْجَتِهِ فَأَعْطَاهَا ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ يَنْوِي الطَّلَاقَ وَلَمْ يَذْكُرْ لَفْظًا لَا صَرِيحًا وَلَا كِنَايَةً لَايَقَعُ عَلَيْهِ، كَمَا أَفْتَى بِهِ الْخَيْرُ الرَّمْلِيُّ وَغَيْرُهُ". ( كتاب الطلاق، رُكْن الطَّلَاق، ٣ / ٢٣٠، ط: دار الفكر) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201202
تاریخ24-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں