بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کے مال میں باپ کا تصرف

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ" باپ نے اپنے بیٹے زید سے کہا کہ آپ کا مال یعنی کمایا ہوا مال آپ کا ہے اور آپ کے بھائیوں کا کمایا ہوا مال آپ کے بھائیوں کا ہے. اب زید مال کما رہا ہے اور اپنے والد کو دیتا ہے. اور والد نے اپنے بیٹے زید کے مال پر زمین خرید کر ان کی والدہ کے نام پر انتقال کیا. تو کیا اس زمین (پراپرٹی)میں ( جو زید کے مال پر خریدی ہوئی ہے) زید کے بھائیوں کا حقِ وراثت ثابت ہے؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں!

جواب

باپ کے کہے بغیر بھی  بیٹے زید کا مال اسی کی ملکیت ہے، اب اس نے مال کماکر باپ کو اگر مالک بنا کر اس کا قبضہ دےدیا تھا اور اس سے باپ نے  اس مال سے زمین خریدی تھی تو یہ مال باپ کا ہوگیا، اور اب ان کی وفات کے بعد  مرحوم کے تمام ورثاء کا حق ہے۔ اور اگر اس نے مالک بنا کر نہیں دیا تھا، بلکہ امانت کے طور پر صرف سنبھالنے کے لیے دیا تھا تو اس صورت میں یہ زید ہی کی ملکیت ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201188
تاریخ24-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں