بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرط پائے جانے پر طلاق

سوال

آدمی اپنے ماں سے یہ کہے: اگر یہ بندے میرے  بھتیجے  کی منگنی پر گئے تو پھر میں آپ کے گھر میں داخل ہوا تو میرے اوپر میری بیوی طلاق ہے،  ایسے الفاظ دوبار کہے، پھر وہ بندے ان کے بھتیجے کی منگنی پر گئے شریعت کی روسے راہ نمائی فرمائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کہنے والا شخص شادی شدہ ہے  اور جن کے متعلق منگنی میں شرکت کا کہا تھا، ان کے شرکت کرلینے کے بعد وہ اپنی والدہ کے گھر میں داخل ہوا ہو تو اس کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوجائیں گی،  اگر عدت میں رجوع کرلیا یا عدت کے بعدتجدیدِ نکاح کرلیا تو آئندہ ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔

اگر کہنے والا شادی شدہ ہی نہیں ہے، تو اس جملے سے نکاح کرنے کے بعد طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اور اگر شادی شدہ ہے لیکن اب تک وہ اپنی والدہ کے گھر داخل نہیں ہوا تو  فی الحال طلاق واقع نہیں ہوئی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201181
تاریخ24-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں