بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کی مدت

سوال

زید نشہ کرتا ہے، 4 ماہ پہلے اس نے بیوی کو گھر سے نکال دیا، 15  فروری 2020 کو اس نے میسج کے ذریعہ دو طلاق بھیجوادیں، اور لکھ  دیا کہ عدت کے بعد آزاد ہو۔  معلوم یہ کرنا ہے کہ لڑکی کی عدت  3 ماہ ہوگی یا 3 ماہواریاں؟  اگر 3 ماوہاریاں ڈھائی ماہ میں پوری ہوجائیں تو عدت کب ختم ہوگی؟

جواب

 جس عورت کو ایام آتے ہوں اور وہ حاملہ نہ ہو، اسے طلاق کی صورت میں  عدت کی مدت تین ماہواریاں ہوں گی خواہ وہ تین ماہ سے پہلے بھی ختم ہو جائے، اور جب سے طلاق واقع ہو ، اس وقت سے عدت شمار کی جائے گی۔ البتہ اگرعورت حاملہ ہوتو عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201170
تاریخ23-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں