بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شبِ براءت کی مناسبت سے خصوصی کھانے کا اہتمام کرنا

سوال

شبِ براء ت  میں گھروں والوں پر بقدرِ وسعت خرچ کرنا کیسا ہے؟  کیا اس کا ثبوت ہمیں احادیث سے ملتا ہے؟

جواب

پندرہ شعبان کی رات  (جو ’’شبِ براء ت‘‘ کے نام سے مشہور ہے) سے متعلق مختلف صحابۂ  کرام رضی اللہ عنہم سے جو روایات مروی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ اس رات اللہ ربّ العزت کی خصوصی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، نیز اس رات عبادت کرنا، اس سے اگلے دن یعنی پندرہ شعبان کو روزہ رکھنا اور حدودِ شریعہ میں رہتے ہوئے ایصالِ ثواب کے  لیے قبرستان جانا، اس قدر احادیث سے ثابت ہے۔  اس کے علاوہ کچھ  بھی احادیث سے ثابت نہیں،  پس اس رات کی مناسبت سے کھانے کا اہتمام کرنا، کوئی مخصوص کھانا اہتمام سے تیار کروانا، سب بدعات و خرافات میں سے ہیں، جن سے اجتناب لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201149
تاریخ23-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں