بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں ختمِ قرآن پر اجرت لینا

سوال

ختمِ قرآن تراویح پر اجرت لینا کیسا ہے؟

جواب

 تراویح میں قرآنِ مجید سناکر اجرت لینا اور لوگوں کے لیے اجرت دینا جائز نہیں ہے، لینے اور دینے والے  دونوں گناہ گار ہوں گے اورثواب بھی نہیں ملے گا،اس حالت میں بہترہےکہ  ﴿اَلَمْ تَرَکَیْفَ﴾  سے تراویح پڑھادی جائے، اس سےبھی تراویح کی سنت ادا ہوجائےگی۔

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 73):
"وأن القراءة لشيء من الدنيا لاتجوز، وأن الآخذ والمعطي آثمان؛ لأن ذلك يشبه الاستئجار على القراءة، ونفس الاستئجار عليها لايجوز، فكذا ما أشبهه كما صرح بذلك في عدة كتب من مشاهير كتب المذهب؛ وإنما أفتى المتأخرون بجواز الاستئجار على تعليم القرآن لا على التلاوة وعللوه بالضرورة وهي خوف ضياع القرآن، ولا ضرورة في جواز الاستئجار على التلاوة كما أوضحت ذلك في شفاء العليل".

(فتاوی ر حیمہ 6/235، ط: دارالاشاعت۔ فتاوی دارالعلوم دیوبند  4/246، ط: دارالاشاعت) فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

تراویح میں ختم قرآن کے موقع قاری اور سامع کے لیے ہدیہ لینے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201115
تاریخ22-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں