بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلے بیٹے کی میراث

سوال

میری والدہ کی پہلی شادی سے ایک بیٹا ہے،  اور دوسری شادی میرے والد سے ہوئی تھی والد صاحب وفات پاگئے ہیں۔ اور ہم چار بہن بھائی ہیں، والد صاحب نے میری والدہ سے شادی کے بعد دوسری شادی کی تھی۔ اور اس سے ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ والد صاحب نے والدہ کے پہلے بیٹے کی کفالت کی ہے اپنی زندگی میں۔ ہمارا ایک مکان ہے۔ جو میری والدہ اور والد نے مل کر بنایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کے مطابق والدہ کی پہلی شادی میں سے جو ان کا بیٹا ہے اس کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟  اور والد کی دوسری شادی سے اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

سوال میں اگرچہ آپ نے یہ ذکر کیا ہے کہ مکان والدہ اور والد نے مل کر بنایا ہے، تاہم  یہ واضح نہیں کیا کہ گھر اصل میں کس کی ملکیت تھا؟ والد یا والدہ؟ اور  جس نے بھی اپنی رقم اس میں شامل کی وہ کس حیثیت میں شامل کی؟ بطور تعاون؟ قرض؟ یا شرکت کے طور پر؟ نیز والدہ حیات ہیں یا نہیں؟ اگر والدہ حیات نہیں ہیں تو والدین کی وفات کی ترتیب کیا ہے؟ یعنی پہلے کس کی وفات ہوئی؟ اگر ان سب باتوں کی وضاحت ہوتی تو واضح جواب دینے میں سہولت ہوتی۔

بہر صورت اگر والد مرحوم کے انتقال کے وقت آپ کی والدہ حیات تھیں تو والد کے ترکے میں سے آپ کے سوتیلے بھائی (یعنی آپ کی والدہ کے سابقہ شوہر سے بیٹے) کا شرعی حصہ نہیں ہوگا، بلکہ آپ کے والد مرحوم کی اپنی اولاد (خواہ وہ آپ کی والدہ سے ہو یا دوسری اہلیہ سے ہوئی ) کو والد مرحوم کی میراث میں سے حصہ ملے گا۔  تاہم اگر والد مرحوم کے بعد  آپ کی والدہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے تو والدہ کے حصے میں جو ترکہ آیا، اس میں سے ان کی حقیقی اولاد (یعنی پہلے شوہر سے ہونے والے بیٹے اور آپ اور آپ کے چاروں بہن بھائیوں) کا حصہ ہوگا، والدہ کی میراث میں آپ کے والد کی دوسری اہلیہ کی اولاد کا حصہ نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201110
تاریخ22-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں