بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے طالب علم کی کفالت کرنا

سوال

مدرسہ کے بچہ کی کفالت کاکیاحکم ہے؟

جواب

انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ بذاتِ خود بہت فضائل اور فوائد کا حامل نیک عمل ہے، پھر اگر اشاعتِ دین کے سلسلے میں خرچ کیا جائے تو عام صدقہ و خیرات سے اس کا اجر دو چند ہوجاتاہے، ایک صدقے کا اجر دوسرا اشاعتِ دین کا ثواب؛ لہٰذا ضرورت مند دینی طالب علم کی کفالت باعثِ اجر و ثواب ہونے کے ساتھ  ساتھ  کفیل کے لیے صدقہ جاریہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201068
تاریخ22-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں