بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر کی تیسری رکعت کی تکبیر کا حکم

سوال

وتر کی تیسری رکعت میں جو  تکبیر   کہتے  ہیں وہ واجب ہے  کہ نہیں؟

جواب

وتر  کی نماز  میں دعاءِ  قنوت سے پہلے تکبیر کہنا واجب ہے، البتہ ہاتھ اٹھانا واجب نہیں، اگر کوئی شخص دعائے قنوت والی تکبیر کہنا بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا، سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں وقت کے اندر وہ نماز واجب الاعادہ ہوگی، وقت گزرنے کے بعد اعادہ مستحب ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1 / 128):

"(ومنها القنوت) فإذا تركه يجب عليه السهو، وتركه يتحقق برفع رأسه من الركوع ولو ترك التكبيرة التي بعد القراءة قبل القنوت سجد للسهو؛ ولأنها بمنزلة تكبيرات العيد، كذا في التبيين".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201034
تاریخ21-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں