بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کے موقع پر بال مونڈنے اور جانور ذبح کرنے میں کیا ترتیب ہے؟

سوال

اگرعقیقہ کے موقع پر  سرکے بال پہلے ہی مونڈ دیے جائیں اور عقیقہ کے جانور کو  بعد میں ذبح  کیا جائے،  اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

عقیقہ کے موقع پر پہلے سر کے بال مونڈنا اور بعد میں جانور ذبح کرنا یا پہلے جانور ذبح کرنا اور بعد میں سر کے بال مونڈنا، یا دونوں عمل ایک ہی وقت میں انجام دینا سب جائز ہے، البتہ پہلے ذبح اور اس کے بعد حلق کرنا مستحب ہے، لیکن اسے لازم سمجھنا یا دونوں عمل کو ایک وقت میں انجام دینے کو لازم سمجھنا غلط ہے۔

"یستحب الذبح قبل الحلق، وصححه النووي في شرح المهذب". (إعلاء السنن باب أفضلیة ذبح الشاة في العقیقة)

المجموع شرح المهذب  میں ہے:

"وَهَلْ يُقَدَّمُ الْحَلْقُ عَلَى الذَّبْحِ؟ فِيهِ وَجْهَانِ (أَصَحُّهُمَا) وَبِهِ قَطَعَ الْمُصَنِّفُ وَالْبَغَوِيُّ وَالْجُرْجَانِيُّ وَغَيْرُهُمْ: يُسْتَحَبُّ كَوْنُ الْحَلْقِ بَعْدَ الذَّبْحِ، وَفِي الْحَدِيثِ إشَارَةٌ إلَيْهِ، (وَالثَّانِي) يُسْتَحَبُّ كَوْنُهُ قَبْلَ الذَّبْحِ، وَبِهَذَا قَطَعَ الْمَحَامِلِيُّ فِي الْمُقْنِعِ، وَرَجَّحَهُ الرُّويَانِيُّ وَنَقَلَهُ عَنْ نَصِّ الشَّافِعِيِّ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ". ( كتاب الحج، باب العقيقة، ٨ / ٤٣٣، ط: دار الفكر)

دیکھیے: عقیقہ کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا، ص: ١٤٩، بعنوان: عقیقہ کے جانور کو  کب ذبح کیا جائے؟  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201018
تاریخ21-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں