بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک کی تنخواہ سے قربانی کرنا

سوال

1- بینک کی تنخواہ سے قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟

2-  بینک کی تنخواہ حلال ہے یا حرام؟

جواب

1۔ بینک کی تنخواہ چوں کہ حلال نہیں، لہذا اس سے قربانی نہ کی جائے، بلکہ حلال مال سے قرباںی کرنا ضروری ہوگا، اگر حلال مال موجود نہ ہو تو کسی حلال آمدنی والے شخص سے قرضہ لے کر قربانی کرلی جائے۔

2۔ بینک کا طریقۂ  تمویل چوں کہ سودی ہے، لہذا بینک میں نہ نوکری حلال ہے اور نہ ہی تنخواہ حلال ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201010
تاریخ21-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں