بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ظہر کی نماز سفر میں قضا ہوگئی، اب کیسے پڑھے؟

سوال

ظہر  کی نماز کا وقت شروع ہو گیا، لیکن میں نے نماز نہیں پڑھی اور پھر میرا شرعی سفر شورع ہو گیا جو کہ ہوائی جہاز سے تھا، جب میں اپنی منزل پر پہنچا تو عصر کا وقت شروع ہو گیا، اس طرح میری ظہر کی نماز قضا ہو گئی، اب میں ظہر کی نماز کی قضا مقیم کی کروں گا یا مسافر کی؟

جواب

ظہر کی نماز کے آخری وقت میں اگر آپ حالتِ سفر میں تھے تو اب وہ نماز قضا  کرتے ہوئے آپ قصر کریں گے۔ تاہم آئندہ اس بات کا خیال کرنا چاہیے کہ جیسے سفر کے لیے مختلف تیاریاں اور نظام اوقات آدمی طے کرتا ہے، ایسے ہی سفر کے دوران یا سفر کے وقت کی نمازوں کی ادائیگی کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 131):
"(والمعتبر في تغيير الفرض آخر الوقت) وهو قدر ما يسع التحريمة (فإن كان) المكلف (في آخره مسافرًا وجب ركعتان، وإلا فأربع) لأنه المعتبر في السببية عند عدم الأداء قبله". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201005
تاریخ21-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں