بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کپورے بطور علاج کھانا

سوال

 بکرے کے خصیتن بغرض علاج یا ویسے کھانا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

بکرے کے خصیتین (جن کو "کپورے" بھی کہا جاتا ہے) ویسے ہی کھانا ناجائز ہے۔ نیز اگر مریض کی اضطراری حالت ہو اور کوئی ماہر دین دار ڈاکٹر یہ تجویز دے کہ اس کے علاوہ علاج کی کوئی اور صورت نہیں ہے، تب تو بقدرِ ضرورت اس کے کھانے کی اجازت ہوگی، عام حالات میں اس کو بطورِ علاج کھانا بھی جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 749):

"(كره تحريماً) وقيل: تنزيهاً، والأول أوجه (من الشاة سبع: الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر)؛ للأثر الوارد في كراهة ذلك، وجمعها بعضهم في بيت واحد فقال:

فقل ذكر والأنثيان مثانة ... كذاك دم ثم المرارة والغدد". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107200886
تاریخ17-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں