بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بریانی کا مشترک بل

سوال

 ہم چند ساتھی جمعہ نماز کے بعد ایک جگہ بریانی کھانے جاتے ہیں، ہرایک  اپنی ضرورت  کے مطابق بریانی وغیرہ منگواتا ہے،  اور جب بل آتا ہے تو سب پر برابر تقسیم کردیا جاتا ہے،  کیا یہ طریقہ کار درست ہے جب کہ سب کے کھانے کی مقدار مختلف ہوتی ہے؟

جواب

اگر باہمی رضامندی سے ایسی ترتیب بنائی گئی ہے اور سب اس پر راضی ہیں تو کوئی حرج نہیں، اگر کسی کو اس ترتیب سے بوجھ ہوتاہو تو وہ اپنا بل الگ سے ادا کردے اور اس اجتماعی نظم میں شریک نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107200876
تاریخ17-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں