بریانی کا مشترک بل
سوال
ہم چند ساتھی جمعہ نماز کے بعد ایک جگہ بریانی کھانے جاتے ہیں، ہرایک اپنی ضرورت کے مطابق بریانی وغیرہ منگواتا ہے، اور جب بل آتا ہے تو سب پر برابر تقسیم کردیا جاتا ہے، کیا یہ طریقہ کار درست ہے جب کہ سب کے کھانے کی مقدار مختلف ہوتی ہے؟
جواب
اگر باہمی رضامندی سے ایسی ترتیب بنائی گئی ہے اور سب اس پر راضی ہیں تو کوئی حرج نہیں، اگر کسی کو اس ترتیب سے بوجھ ہوتاہو تو وہ اپنا بل الگ سے ادا کردے اور اس اجتماعی نظم میں شریک نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

