بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل میں نذر ماننا

سوال

اگر کوئی شخص دل میں نذر مانے اور زبان پر تلفظ نہ کرے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

جب تک زبان سے منت کے لیے الفاظ استعمال نہ کرے اس وقت تک دل ہی دل میں قسم یامنت ماننے سے قسم یا منت منعقد نہیں ہوتی، لہذا محض دل ہی دل میں یہ نیت کرنے سے منت لازم نہ ہوگی۔

البحرالرائق میں ہے:

"وركنها اللفظ المستعمل فيها، وشرطها العقل والبلوغ". (4/300)

بدائع الصنائع میں ہے :

"( فصل ): وأما ركن اليمين بالله تعالى فهو اللفظ الذي يستعمل في اليمين بالله تعالى". (6/210) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200861
تاریخ17-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں