بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کے بدلے مکان میں رہنا

سوال

اگر کوئی شخص اپنا مکان کسی کو دے اور اس سے پیسے لے لے اس نیت سے کہ وہ میری رقم سے کاروبار کرلے گا اور میں مکان سے فائدہ اٹھا لوں گا ایک مدت تک  تو کیا یہ صورت جائز ہے؟

جواب

شرعاً یہ صورت جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63):

"وفي الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضاً عن منفعة القرض لا مجاناً، وكذا لو أخذ المقرض من المستقرض حماراً ليستعمله إلى أن يرد عليه الدراهم اهـ وهذه كثيرة الوقوع، والله تعالى أعلم". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200853
تاریخ17-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں