بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے؟

سوال

کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے؟

جواب

اگراکاؤنٹ کھلوانے کی واقعی ضرورت ہوتوکسی بھی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے،اگرچہ اس اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم بھی بینک اپنےسودی معاملات میں استعمال کرتاہے، لیکن اکاؤنٹ ہولڈر کو سود میں شامل نہیں کیا جاتا؛ اس لیے ضرورت کے وقت کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا درست ہے،  گو بہتر یہ ہی ہے کہ اس سے بھی احتراز کیا جائے؛ کیوں کہ اس صورت میں بھی اکاؤنٹ ہولڈر کا پیسہ سودی نظام میں استعمال ہوتا ہے، لہذا احتیاط بہتر ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200835
تاریخ16-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں