بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چمڑا کھانے کا حکم

سوال

چمڑا کھانا کیسا ہے؟

جواب

حلال جانور جس کا گوشت کھانا جائز ہے، اس کا چمڑا کھانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

الفتاوٰی البزازیة علی الفتاویٰ الهندیة، کتاب الاضحیة، (۶ ؍ ۲۹۴ ) رشیدیة:

’’وذکر بکر رحمه الله تعالیٰ أن الجلد کاللحم.‘‘

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 749):

’’(كره تحريماً)، وقيل: تنزيهاً، والأول أوجه، (من الشاة سبع: الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر)؛ للأثر الوارد في كراهة ذلك‘‘.

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’جس جانور کا گوشت کھانا جائز ہے اس کا چمڑا بھی گوشت کے ساتھ کھا لیا جائے تو مضائقہ نہیں، درست ہے‘‘۔ (کتاب الاضحیہ، باب الذبائح، ج:۱۷ ؍ ۲۹۱، ۲۹۲ ط:مکتبۃ الفاروق ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107200812
تاریخ15-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں