بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مقلد کا نکاح پڑھانا

سوال

غیر مقلد کسی کا  نکاح پڑھائے تو  شرعاً کیسا ہے؟

جواب

صحیح العقیدہ ،متبعِ سنت عالمِ دین سے نکاح پڑھانا مستحب  ہے، باقی اگر کسی غیر مقلد  نے نکاح پڑھالیا، اور مجلسِ نکاح میں دلہا اور دلہن یا دلہن کا وکیل اورگواہان موجود تھے تو ایسا نکاح منعقد ہوجائے گا، اس لیے کہ نکاح خواں کی حیثیت محض معبر اور سفیر  کی ہے۔(فتاویٰ محمودیہ، جلد 10 کتاب النکاح،  ص: 596-598۔ ط: جامعہ فاروقیہ، کراچی)

"ویندب إعلانه وتقدیم خطبة، وکونه في مسجد یوم جمعة بعاقد رشید"...  الخ (الدرالمختار، کتاب النکاح، کراچی ۳/ ۸)

المبسوط للسرخسي (5/ 18):
"والمعنى فيه أن العاقد في باب النكاح سفير ومعبر".  
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200799
تاریخ15-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں