بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تیسری طلاق کو معلق کرنا

سوال

4 دسمبر 2019 کو میں نے اپنے سالے سے جا کر کہا کہ میں نے تمہاری بہن کو دو طلاقیں دے دی ہیں  اور اگر وہ 5 بجے تک گھر نہیں آئی تو تیسری طلاق ہو جائے گی، اس وقت وہ  حاملہ تھی، اب بتائیں کہ طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ نے جب اپنے سالے سے یہ جملہ کہا کہ "اور اگر وہ 5 بجے تک گھر نہیں آئی تو تیسری طلاق ہو جائے گی" تو اس جملہ سے آپ کی بیوی کی تیسری طلاق 5 بجے تک گھر نہ آنے کے ساتھ معلق تھی، اگر وہ اس دن شام 5 بجے گھر نہیں آئی ہو  تو تیسری طلاق بھی واقع سمجھی جائے گی اور نکاح ختم متصور ہو گا، ساتھ رہنا جائز نہیں ہو گا اور آپ کی اہلیہ کی عدت وضعِ حمل (یعنی بچے کی پیدائش) ہو گی، وضع حمل پر عدت ختم ہو جائے گی، عدت کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

اور اگر وہ شام 5 بجے تک گھر آ گئی ہو تو تیسری طلاق واقع نہیں ہو گی، دو طلاقوں کے بعد  ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو عدت میں رجوع کر کے اور عدت کے بعد دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہنا  جائز ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 511):
"(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها)". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200773
تاریخ14-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں