بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت عکاشہ کو دی گئی ٹہنی

سوال

مجھے ایک بات کی تصدیق کرنی ہے وہ یہ کہ! جنگِ بدر کے دن حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی تلوار ٹوٹ گئی تو حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک درخت کی ٹہنی دے کر فرمایا کہ ’’تم اس سے جنگ کرو‘‘ وہ ٹہنی ان کے ہاتھ میں آتے ہی ایک نہایت نفیس اور بہترین تلوار بن گئی جس سے وہ عمر بھر تمام لڑائیوں میں جنگ کرتے رہے؛ یہاں تک کہ حضرت امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  دورِ خلافت میں وہ شہادت سے سرفراز ہوگئے۔  کیایہ بات کسی حدیث سے ثابت ہے اور کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

یہ واقعہ کئی کتابوں میں مذکور ہے، ذیل میں ’’الخصائص الکبریٰ‘‘ کے حوالہ سے ذکر کیا جارہا ہے ، عبارت ملاحظہ فرمائیں:

"وأخرج الواقدي حدثني عمر بن عثمان الحجبي عن أبيه عن عمته قالت: كان عكاشة بن محصن قال: انقطع سيفي يوم بدر، فأعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم  عودًا، فإذا هو سيف أبيض طويل، وقاتلت به حتى هزم الله المشركين، فلم يزل عنده حتى هلك، أخرجه البيهقي وابن عساكر". (الخصائص الکبری، ما وقع في البدر من الآیات والمعجزات: ۱/۳۴۷،  ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت)

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہے، اس کا بیان کرنا درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200771
تاریخ14-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں