بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کا شرعی حکم

سوال

مروجہ پرائز بانڈ کا شرعی حکم کیا ہے؟ آیا یہ جائز ہے یا نا جائز؟ یاد رہے کہ پرائز بانڈ کی صورت یہ ہے کہ کچھ مخصوص رقم مثلاً 5000 روپیہ جمع کروائی جاتی ہے اور پھر قرعہ اندازی کے ذریعے انعام ملتا ہے مثلاً 5000 پہ لاکھ روپیہ انعام ملتا ہے. اور اگر انعام نہ نکلے تو بینک کی طرف سے یہ اختیار ہے کہ صارف اپنی اصل رقم(5000)واپس بھی لے سکتا ہے. برائے مہربانی اس حوالے سے راہ نمائی فرما دیں!

جواب

پرائز بانڈ کی خریدوفروخت  اور اس پر ملنے والا انعام ناجائز اور حرام ہے ۔

تفصیل کے لیے جامعہ کی ویب سائٹ پر موجود فتوی درج ذیل لنک پردیکھیں ۔

پرائز بانڈ کی شرعی حیثیت

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200731
تاریخ13-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں