بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غلطی سے اللہ کو برا بھلا کہنا

سوال

اگر غلطی سے کوئی اللہ سے ناراض ہو اور برا بھلا کہے تو اس  کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

جن الفاظ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات و صفات میں سے کسی کا انکار، اعتراض، استہزا یا استخفاف ہو  ان کی ادئیگی سے بندہ (العیاذ باللہ) اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، اگر واقعۃً کسی شخص نے اللہ تعالیٰ کو برا کہا ہے تو  اسے سمجھانا چاہیے کہ فورًا تجدیدِ ایمان کرکے اللہ کے حضور توبہ اور استغفار کرے  اور شادی شدہ ہے تو نکاح کی بھی شرعی شرائط کے مطابق تجدید کرے۔ 

الفتاوى الهندية - (2 / 258):

"(ومنها ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لايليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكًا، أو ولدًا، أو زوجةً، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص، ويكفر بقوله: يجوز أن يفعل الله تعالى فعلًا لا حكمة فيه، ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر، كذا في البحر الرائق". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200722
تاریخ13-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں