بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں دو رکعتوں میں دو سورتوں کے درمیان ایک، دو سورتیں چھوڑدینا

سوال

ایک شخص  فرض  نماز  کی  پہلی  رکعت میں سورۃ الکافرون  پڑھتا ہے اور دوسری  رکعت میں سورۂ  اخلاص  یا  سورۃ الفلق  یا  الناس  پڑھے ، درمیان  کی دو  یا تین  چار  سورتوں کو  چھوڑ کر۔ کیا اس طرح کرنے سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے؟

جواب

 فرض  نماز   میں  دو   سورتوں  کے  درمیان  ایک مختصر سورت  جان کر چھوڑدینا  مکروہِ تنزیہی ہے،  یعنی دو سورتیں  دو رکعت میں پڑھی جائیں، دونوں سورتوں کے درمیان میں کوئی  مختصر سورت چھوڑدی جائے (جس میں دو رکعتوں کی واجب قراء ت نہ ہوسکتی ہو) ، جیسے  پہلی رکعت میں  سورۃ تکاثر پڑھی اور دوسری میں  سورۂ ہمزہ پڑھی ، اور درمیان میں سورہ عصر چھوڑدی تو  یہ مکروہ تنزیہی ہے، مناسب نہیں ہے، لیکن  نماز ہوجائے گی سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔ 

 ہاں ایسی سورت کا فاصلہ دیا جس سے دو رکعت بن سکتی ہیں، جیسے پہلی رکعت میں سورہ ضحیٰ اور دوسری رکعت میں سورہ تین پڑھنا  یا  ایک سے زائد سورت کا فاصلہ دیا  جیسے پہلی رکعت میں سورۂ کافرون اور دوسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھی  تو  نماز  بلا کراہت جائز ہوگی۔ نیز نفل نماز میں یہ  مکروہ نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 546):
"ويكره الفصل بسورة قصيرة، وأن يقرأ منكوساً.

(قوله: ويكره الفصل بسورة قصيرة) أما بسورة طويلة بحيث يلزم منه إطالة الركعة الثانية إطالةً كثيرةً فلا يكره، شرح المنية. كما إذا كانت سورتان قصيرتان، وهذا لو في ركعتين، أما في ركعة فيكره الجمع بين سورتين بينهما سور أو سورة، فتح. وفي التتارخانية: إذا جمع بين سورتين في ركعة رأيت في موضع أنه لا بأس به. وذكر شيخ الإسلام لا ينبغي له أن يفعل على ما هو ظاهر الرواية. اهـ. وفي شرح المنية: الأولى أن لا يفعل في الفرض ولو فعل لايكره إلا أن يترك بينهما سورة أو أكثر".فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200681
تاریخ12-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں