بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی اور اس کی پھوپھی کو نکاح میں جمع کرنا / خاتون اور اس کی بھتیجی کو نکاح میں جمع کرنا

سوال

میں اپنے سگے کزن کی بیٹی اور اپنے اسی کزن کی بہن کو  ایک ساتھ  اپنی  بیویاں رکھ  سکتا ہوں؟

جواب

ایک خاتون اور اس کی پھوپھی یا ایک خاتون اور اس کی بھتیجی کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں ہے؛ لہذا آپ کے لیے اپنے کزن کی بیٹی اور اسی کزن کی بہن کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں ہے، اگر کسی ایک سے آپ کا نکاح ہوچکا ہے تو یہ نکاح تو درست ہے، دوسری (پھوپھی، یا بھتیجی) سے نکاح نہ کیجیے۔

الفتاوى الهندية (1 / 277):
"والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرًا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما، هكذا في المحيط. فلايجوز الجمع بين امرأة وعمتها نسباً أو رضاعاً، وخالتها كذلك ونحوها".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200632
تاریخ10-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں