بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانا

سوال

ایک شخص  نے  قرآن  پر  ہاتھ  رکھ  کر جھوٹی قسم کھائی، اب اس شخص کے لیے کیا حکم ہے?

جواب

قرآنِ  کریم پر ہاتھ  رکھ  کر  جھوٹی قسم  کھاناسخت  ترین گناہِ کبیرہ ہے۔حدیث شریف میں جھوٹی قسم کو شرک وغیرہ کے بعدبڑا اورسنگین گناہ کہاگیا ہے اورحلف جب قرآن پر ہاتھ  رکھ  کرہوتو اس گناہ  کی سنگینی از حد بڑھ  جاتی ہے،   بہرحال اب توبہ استغفارکیاجائے، گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی جائے اورآئندہ کے لیے اس طرح نہ کرنے کا عزم کرلیا جائے۔

اور توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ اس قسم کے نتیجے میں اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو اس کی تلافی کرے، البتہ جھوٹی قسم کی صورت میں کفارہ نہیں ہے۔

صحيح البخاري (8/ 137):
"حدثنا فراس، قال: سمعت الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200623
تاریخ10-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں