بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معاملات کی کتاب کی حیثیت

سوال

کتاب معاملات کی کوئی قانونی حثیت ہے،  کیا سول کورٹ اس پر عمل درآمد کروانے کا پابند ہے؟

جواب

سائل  کے سوال کا مقصد اگر معاملات سے متعلق کسی خاص کتاب کے حوالے سے استفسار ہے ، تو اس کے مصنف اور کتاب کا مکمل نام لکھ کر اس کی حیثیت معلوم کی جاسکتی ہے، اگر معاملات سے متعلقہ شرعی اَحکام کے حوالے سے سوال مقصود ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ معاملات سے متعلق  شریعت کے  جو اَحکام منقول ہیں، جنہیں فقہاء کرام نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے وہ قانونِ شریعت ہے،  ان پر عمل کرنا ضروری ہے،   باقی سول کورٹ  میں اس پر عملدرآمدی کی تفصیل کے لیے  ماہرین قانون سے رجوع کرلیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107200613
تاریخ10-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں