بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اے ٹی ایم، کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ

سوال

اے  ٹی  ایم  کارڈ،  ڈیبٹ  کارڈ  اور کریڈٹ  کارڈ کا تعارف، شرعی اَحکام اور فوائد بتائیں!

جواب

ملحوظ رہے کہ یہاں پیش آنے والے مسائل کا شرعی حکم بتایا جاتاہے، لہٰذا مذکورہ کارڈز کے تعارف کے لیے متعلقہ مراجع کی طرف رجوع کرنا چاہیے، تینوں کے تعارف کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں:

اے ٹی ایم

کریڈٹ کارڈ

ڈیبٹ کارڈ

شرعی حکم یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال ناجائز ہے؛ کیوں کہ اس میں سودی معاہدہ ہوتا ہے۔ اے ٹی ایم اور ڈیبٹ کارڈ کا جائز استعمال جائز ہے۔

باقی ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کی تفصیل یہاں ملاحظہ کریں:

ڈیبیٹ کارڈ اور کریڈیٹ کارڈ کے ذریعہ ملنے والی رعایت کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200608
تاریخ10-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں