بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا نفقہ شوہر کے باپ کے ذمہ ہے یا نہیں؟

سوال

کیا بیوی اپنے شوہر کو  اس بات پر مجبور کر سکتی ہے کہ مجھے اپنے باپ سے گاڑی کا خرچہ لے کر دو؟ 

جواب

اصولی طور پر بیوی کا نان نفقہ شوہر کے ذمہ ہے، شوہر کے باپ کے ذمہ نہیں، لہذا بیوی کا شوہر کو اس بات پر مجبور کرنا درست نہیں، البتہ اپنی وسعت اور معروف طریقے کے مطابق شوہر، بیوی کے حقوق واخراجات  ادا کرے گا۔  

"تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة". 

( الفتاوى  الهندیة، كتاب الطلاق / الباب التاسع عشر في النفقات ، الفصل الأول ۱ ؍ ۵۴۴)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200550
تاریخ09-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں