بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر میں اندر کی دیوار یا سلیب پر کلمہ طیبہ لکھنا

سوال

جب مردے کو قبر میں دفنایا جاتا ہے تو قبر کی اندرونی سلیب عین مونہہ کے اوپر والی پر مٹی کے ڈھیلے سے کلمہ طیبہ لکھنا جائز ہے؟ نیز اگر کوئی لکھ دے تو اسے مٹانا جائز ہے؟

جواب

قبر  کی دیواروں یا سلیب پر کلمہ طیبہ لکھنا شریعت سے ثابت نہیں ہے، اگر  کوئی بغیر سیاہی کے انگلی کے اشارے سے اس طرح لکھے  کہ دیوار  یا سلیب پر حروف کا نشان نہ ہو تو  اس میں حرج نہیں ہے، لیکن اگر حروف کے نشانات بھی ظاہر ہوں تو  یہ درست نہیں ہے، اس میں کلمہ کی بے حرمتی کا اندیشہ ہے، اگر اس طرح لکھ دیا جائے تو  اسے مٹانا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 246):
"تكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة، فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت، فتأمل، نعم نقل بعض المحشين عن فوائد الشرجي أن مما يكتب على جبهة الميت بغير مداد بالأصبع المسبحة -بسم الله الرحمن الرحيم- وعلى الصدر لا إله إلا الله محمد رسول الله، وذلك بعد الغسل قبل التكفين اهـ والله أعلم". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200547
تاریخ09-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں