بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

"تو مجھ پر حرام ہے" کا حکم

سوال

ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے تو اگر بازار گئی تو مجھ پر حرام ہے،  اگر وہ بازار جاتی ہے تو اسے کتنی طلاق ہوں گی؟" تو مجھ پر حرام ہے" یہ صریح طلاق ہے یا کنایہ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیوی کے بازار جانے سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی۔ ’’حرام‘‘  کالفظ صریح بائن ہے،یعنی اس سے بلانیت ایک طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے لہذا "تو مجھ پر حرام ہے" سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 314):
"قد مر أن "أنت حرام" ملحق بالصريح، فلايحتاج إلى نية، فلعلّ هذا مبنيّ على غير المفتى به، ط. قلت: وهو المتعين".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200535
تاریخ09-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں